Copy Rights @DMAC 2016
www.sayhat.net
انڈے کا چھلکا (پوست بیضہ مرغ)
ماہیت۔
انڈے سے زردی اور سفید نکال لینے کے بعد جو خول باقی رہ جاتا ہے۔وہی انڈے کا چھلکا ہے۔
مزاج۔
سردوخشک درجہ دوم ۔
افعال۔
قابض۔مجفف،جالی ۔
استعمال۔
انڈے کے چھلکے کو سوختہ کرکے یا اس کا کشتہ بناکرجریان الرحم اور زیابیطس وغیرہ میں کھلاتے ہیں۔اوراکشر اس کو سرعت انزال میں بھی استعمال کیاجاتا ہے۔چھلکا سوختہ کرکے امراض چشم خصوصاًگل چشم میں بطور سرمہ آنکھ میں لگاتے ہیں۔نکسیر کو روکنے کیلئے اس کا نفوخ کرتے ہیں۔
مقدارخوراک۔
کشتہ ایک سے چار جبکہ سوختہ ایک گرام تک۔
انڈہ کی زردی کا تیل مختلف طریقوں سے نکالا جاتا ہے۔اور اس کو مختلف امراض کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔
روغن بیضہ مرغ کھانے کے علاوہ طلاء میں مستعمل ہے۔یہ روغن اعصابی کمزوری سرعت انزال جریان اور سیلان الرحم کیلئے استعمال کرتے ہیں۔اور روغن طلاًاعصابی دردوں کے علاوہ جوڑوں کے دردوں کیلئے بھی مفید ہے۔
روغن زردی داد گنج بالچھڑ میں بھی مفیدہے۔اس کے استعمال سے بال جلد نکل آتے ہیں۔
نوٹ۔
آج کل یہ روغن تیا ر بھی بازار سے مل جاتا ہے۔
(Gum Resin)
لاطینی میں۔
Pinea Sarcika
دیگرنام۔
عربی میں غزروت کحل فارسی میں انجدک کدور سندھی میں گون،ہندی میں لائی
ماہیت۔
ایک خاردار پودے کا گوند ہے۔اس کا پو دا لگ بھگ ایک گز اونچا ہوتا ہے۔پھول زرد اورچھوٹا ہوتا ہے۔پودے کے اس حصے سے رس نکلتا ہے جس حصے پر دھوپ کم پڑتی ہے۔اس کو انزروت گوشت کہتے ہیں۔دھوپ لگنے کی وجہ سے اس کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے۔اسے انزروت کا گوشت خوردہ کہتے ہیں۔یہ عموماًآنکھ کی ادویات میں استعمال ہوتی ہے۔اس کا ذائقہ نہایت تلخ ہوتا ہے۔اگر کچھ سفید جوکہ شیریں اور تلخ ہوتو وہ زیادہ بہتر ہوتاہے۔
مزاج۔
گرم وخشک درجہ دوم
افعال۔
مسہل بلغم کاسرریاح ،مجفف قروح مغری،مجلل۔
استعمال۔
انزروت کو زخموں کے خشک کرنے کیلئے مرہموں میں شامل کرتے ہیں۔کیونکہ یہ زخموں کی خراب رطوبتوں کو خشک کرکے جلد ٹھیک کردیتاہے۔شہد اور انزروت ملاکر کپڑے کی بتی بھگوکر کان میں رکھتے ہیں۔
کھانے سے حمل ساقط کرتا ہے۔پیٹ کے کیڑوں کو خارج کرتاہے۔جلد کے داغ دھبوں کو دور کرتاہے۔انزروت کو تنہا استعمال کرنا ٹھیک نہیں۔کسی دست آوردواء کے ساتھ استعمال کریں تو مفید ہے۔اگر تنہا استعمال کریں تو اس سے دس گنا روغن بادام ضرور پی لیں۔
وجع المفاصل اور عرق النساء میں بلغم کوبذریعہ اسہال خارج کردیتی ہے۔
نفع خاص۔
مجفف رطوبت زخم۔
مضر۔
آمعاء کو۔
مصلح۔
کتیراروغن بادام ،
بدل۔
ایلوا(اسہال میں)۔
مقدارخوراک۔
پانچ سو گرام سے ایک گرام تک ۔
مجفف رطوبت زخم۔
مضر۔
آمعاء کو۔
مصلح۔
کتیراروغن بادام ،
بدل۔
ایلوا(اسہال میں)۔
مقدارخوراک۔
پانچ سو گرام سے ایک گرام تک ۔
www.sayhat.net
انکول
(Aian Opium)
(Aian Opium)
دیگرنام۔
مرہٹی میں انکول ،ہندی میں اکولہ ،بنگالی میں کرکنٹہ ،گجراتی میں اونکلہ ،تلنگی،سنسکرت میں انگولا اور انگریزی میں ایلنیگم کہتے ہیں۔
ماہیت۔
سدا بہار قسم کا ایک چھوٹا درخت ہے۔جس کے پرے شفتالو کے مشابہ ہوتے ہیں۔اوران پر باریک باریک دھاریاں مثل پان کے پتوں
کی طرح ہوتی ہے۔پھول موسم گرما کے شروع میں آتے ہیں اور مئی اور اگست میں بکائیں کی مانند گچھے دار پھل لگتے ہیں۔اس درخت کے تمام اجزاء میں سے مچھلی کی طرح بو آتی ہے۔
رنگ۔
سبزیا بھورا جبکہ پھول زرد ۔
ذائقہ۔
پھل شیریں اورچھال تلخ،
مقام پیدائش۔
جنوبی ہند اوربرماکے جنگلات میں پایا جاتا ہے۔
مزاج۔
مرہٹی میں انکول ،ہندی میں اکولہ ،بنگالی میں کرکنٹہ ،گجراتی میں اونکلہ ،تلنگی،سنسکرت میں انگولا اور انگریزی میں ایلنیگم کہتے ہیں۔
ماہیت۔
سدا بہار قسم کا ایک چھوٹا درخت ہے۔جس کے پرے شفتالو کے مشابہ ہوتے ہیں۔اوران پر باریک باریک دھاریاں مثل پان کے پتوں
کی طرح ہوتی ہے۔پھول موسم گرما کے شروع میں آتے ہیں اور مئی اور اگست میں بکائیں کی مانند گچھے دار پھل لگتے ہیں۔اس درخت کے تمام اجزاء میں سے مچھلی کی طرح بو آتی ہے۔
رنگ۔
سبزیا بھورا جبکہ پھول زرد ۔
ذائقہ۔
پھل شیریں اورچھال تلخ،
مقام پیدائش۔
جنوبی ہند اوربرماکے جنگلات میں پایا جاتا ہے۔
مزاج۔
گرم وتر درجہ دوئم۔
افعال واستعمال۔
جڑ کی چھال مقئی ،معرق ،دافع بخار،ملین ۔قاتل کرم شکم اور مقوی دل ہے۔ریاح اوربلغم کے فساد کودفع کرتا ہے۔اس کے پتوں کا رس یا جڑ کو گھس کراورام اور ان ورموں پر جو جانوروں کے کاٹنے سے ہوں مفید ہے۔جڑ کی چھال ہمراہ مرچ سیاہ کےسفوف بناکر پھانکنا ،جزام آتشک اور جلدی امراضمیں مفید ہے۔اس درخت کا پھل مقوی معقدی اور مبرد ہے ۔اس کو جریان خون سل ودق اور جسم کی جلن کیلئے ہمراہ فائدہ مند ہے۔اس کے بیجوں سے تیلنکالا جاتا ہے۔جو جلانے کے کام آتا ہے۔اس کے پتوں کو بطور پلٹس استعمال کرتے ہیں۔
مضر۔
مقئی ہے۔
کیمیاوی تجزیہ ۔
اس میں پوٹاشیم کلورائیڈ کے علاوہ ایک کڑوہ الکلائیڈ پایاجاتا ہے۔جوکہ یقیناًجلدی امراض اور دافع بلغم معرق اور ملین ہے۔
مقدارخوراک۔
جڑکی چھال بطور ایک رتی سے دورتی اور جبکہ بطور مقئی تین گرام تک۔
افعال واستعمال۔
جڑ کی چھال مقئی ،معرق ،دافع بخار،ملین ۔قاتل کرم شکم اور مقوی دل ہے۔ریاح اوربلغم کے فساد کودفع کرتا ہے۔اس کے پتوں کا رس یا جڑ کو گھس کراورام اور ان ورموں پر جو جانوروں کے کاٹنے سے ہوں مفید ہے۔جڑ کی چھال ہمراہ مرچ سیاہ کےسفوف بناکر پھانکنا ،جزام آتشک اور جلدی امراضمیں مفید ہے۔اس درخت کا پھل مقوی معقدی اور مبرد ہے ۔اس کو جریان خون سل ودق اور جسم کی جلن کیلئے ہمراہ فائدہ مند ہے۔اس کے بیجوں سے تیلنکالا جاتا ہے۔جو جلانے کے کام آتا ہے۔اس کے پتوں کو بطور پلٹس استعمال کرتے ہیں۔
مضر۔
مقئی ہے۔
کیمیاوی تجزیہ ۔
اس میں پوٹاشیم کلورائیڈ کے علاوہ ایک کڑوہ الکلائیڈ پایاجاتا ہے۔جوکہ یقیناًجلدی امراض اور دافع بلغم معرق اور ملین ہے۔
مقدارخوراک۔
جڑکی چھال بطور ایک رتی سے دورتی اور جبکہ بطور مقئی تین گرام تک۔
No comments:
Post a Comment