WWW.SAYHAT.NET       TREATMENT WITH GAURANTY       Whats App: +923006397500     Tel: 0300-6397500       Mobile web: M.SAYHAT.NET
: اس ویب سائیٹ میں موجود تمام تر ادویات عمرانیہ دواخانہ کی تیار کردہ ہیں اور یہ آپکو عمرانیہ دواخانہ،ملتان اللہ شافی چوک سے ہی ملیں گی نوٹ: نیز اس ویب سائیٹ میں درج نسخہ جات کو نہایت احتیاط سے بنائیں اور اگر سمجھ نہ لگے تو حکیم صاحب سے مشورہ صرف جمعہ کے روز مشورہ کریں اور اگر نسخہ بنانے میں کوئی کوتاہی ہو جائے تو اس کی تمام تر ذمہ داری آپ پر ھو گی۔
Welcome to the Sayhat.net The Best Treatment (Name Of Trust and Quailty معیار اور بھروسے کا نام صحت ڈاٹ نیٹ)

1.2.16

پلول’’ پرور‘‘ پنا ’’ زمرد۔ پن چھٹکی پلٹکی ، بن سٹکی

Copy Rights @DMAC 2016
www.sayhat.net
پلول’’پرور‘‘
Shaple Gourd) Wild )

دیگرنام۔
پجاپی میں پرول ہندی میں کڑوا پرول ،گجراتی میں پٹول ،بنگالی میں پلتا لتا سنسکرت میں پٹول اور انگریزی میں وائلڈ سنسیک گورڈ۔
ماہیت۔
پلول ایک پھل ہے۔جس کی بیل خاردار ہوتی ہے۔پھل کندوری کے مشابہ ہوتاہے۔اور اس پر لمبائی میں لکیریں کھینچی ہوتی ہیں۔پتے پانچ انگلیوں کے مشابہ یا کھیرے کے پتوں کی مانند لیکن چکنے ہوتے ہیں۔اور پھل امرود کے برابر ہوتاہے۔
رنگ۔
پھول سفید پھل خام نیلگوں سبز اورپکنے پرسرخی مائل سفید ۔
ذائقہ۔
شیریں اور تلخ دونوں قسم کا ہے۔
مقام پیدائش۔
مغربی پنجاب ،یوپی اور مشرقی بنگال کے علاوہ کڑوا پرول خودرو جنگلوں میں بکثرت پیدا ہوتا ہے۔
مزاج۔
گرم ایک تردو ۔
افعال۔
ملین شکم ،مولد خون صالح،زودہضم ۔
پتے۔
دافع بخار۔
استعمال ۔
پلول کو تنہا یا گوشت کے ہمراہ پکا کر بکثرت کھایاجاتا ہے اخلاط صالح پیدا ہوتے ہیں اورزورہضم ہے اس لئے بیماروں کے واسطے یہ اچھی ترکاری ہے۔
پلول کے بیل کے پتوں کا پانی پرانے بخاروں میں پلایا جاتا ہے۔
ایک تولہ لے کر خشک دھنیا ایک تولہ کے ہمراہ نیم کوب کرکے رات کے وقت بھگودیتے ہیں۔صبح کے وقت مل کرچھان کر شہد خالص بقدر ضرورت شیریں کرکے نصف شام کے وقت پلاتے ہیں۔
یہ نسخہ پھوڑے پھنسی کو بھی نافع ہے اور صفراوی بخاروں کو توڑنے کے علاوہ تلین بھی کرتا ہے۔
نفع خاص۔
دافع فساد اخلاط ثلاثہ ۔
مضر۔
گرم مزاجوں کیلئے۔
مصلح۔
کشنیز تروخشک ۔
بدل۔
توائی۔
مقدارخوراک۔
بیل اور پتے چھ ماشے سے ایک تولہ تک۔
Copy Rights @DMAC 2016
www.sayhat.net
پنا’’زمرد‘‘
(Emaralds)

دیگرنام۔
عربی اور فارسی میں زمرد ،بنگالی میں پانا ،سندھی میں زمرد اور انگریزی میں ایمی رلڈ کہتے ہیں۔
ماہیت۔
یہ جواہرات کی قسم میں سے ہے سبز رنگ کا قیمتی پتھر ہے۔اس میں جتنی چمک ہوگی ہی اچھا ہوگا یہ مصر اور سوڈان وغیرہ سے آتا ہے۔
اقسام ۔
زمردرنگ کے لحاظ سے کئی قسم کا ہے۔
۱۔زبائی سبز مکھی کی مانند ۔
۲۔ریحائی۔۔۔برگ ریحان کی طرح۔
۳۔
فستقی۔۔۔پستہ کی مانند ۔۔۔اس کو زمرد کہنہ بھی کہتے ہیں۔
سلقی ۔۔چقندرکی طرح ۔
زنجاری ،،رنگار کے مانند ،،
کراثی گندکی طرح کا ہوتا ہے۔
مزاج۔
سرددوم خشک سوم۔
استعمال۔
زیادہ تر اس کا کشتہ بناکر استعمال کیاجاتاہے۔مفرح۔مقوی اعضاء رئیسہ ہونے کی وجہ سے یا قوتی جیسی ادویہ میں شامل کیاجاتا ہے۔خفقان کو دور کرتا ہے۔نفث الدم ضعف معدہ کو درست کرتا ہے۔ضعف جگر استسقاء یرقان ضعف گردہ اور اسہال الدم کے ازالہ کیلئے گھس کر پلایا جاتا ہے۔مفتت حصاۃ ومدر ہونے کی وجہ سے گردے کی پتھری کو توڑنکالتا ہے۔تریاق ہونے کی وجہ سے زہروں میں گھس کر پلاتے ہیں۔
جنون اورباربارپیشاب آنے میں اس کا باریک سفوف یا کشتہ کھلاتے ہیں۔بینائی کو قوت بخشتا ہے۔
نفع خاص۔
قلب و دماغ کا مقوی ۔
مضر۔
مثانہ کو ۔
مصلح۔
مشک اور گلاب ۔
بدل۔
مرجان ۔
مقدارخوراک۔
سفوف چاررتی سے ایک ماشہ تک کشتہ نصف رتی سے ایک رتی تک ۔
مشہور مرکبات۔
کشتہ زمرد ،خمیرہ ،گاؤ۔زنان عنبری جوہردار ،یاقوتی بارد معجون طلاء۔
Copy Rights @DMAC 2016
www.sayhat.net
’’ پن چھٹکی‘پلٹکی،بن سٹکی‘‘
ماہیت۔
ایک چھوٹا درخت ہے ۔جس کے پتے حنا اورپھل مکو کے پھلوں سے مشابہ ہوتے ہیں یہ درخت عموماًپانی کے کنارے پیدا ہوتا ہے۔
رنگ۔
خام پھل سبز پختہ نیلا اور پھول زرد ۔
ذائقہ۔
تلخ۔
استعمال۔
مدرقوی اورمحلل ہے۔پھل اور پتوں کو پیس کر استسقاء کے مریض کے پیٹ پر لگانا نافع ہے ۔اس کے پتوں پھلوں اور باریک شاخوں کو پانی میں پیس کر پلانے سے اسقاط حمل ہوجاتا ہے۔یا بچہ جلد پیدا ہوتا ہے۔
مقدارخوراک۔
سات ماشے سے ایک تولہ۔

پستہ مغزپستہ۔ پلاس پاپڑہ۔ بیوٹی سمینا۔ پوست بیرون پستہ. پستہ کے چھلکا

Copy Rights @DMAC 2016
www.sayhat.net
پستہ مغزپستہ۔
(Pistachio Nut)

لاطینی میں پستہ کو (Pistachio Vera)
خاندان۔
Anacardiaceae
دیگرنام۔
عربی میں فتق اور یونانی میں بستاقبا۔
ماہیت۔
پستہ ایک درخت کا پھل ہے جوکہ بھلاوے کی درخت کی طرح ہوتا ہے اور اس طرح کے پتوں پر کاکڑا سگی کی طرح ایک کیڑا گھر بناتاہے جس کو پستے کا پھول کہاجاتا ہے۔پھول ایک طرف سے گلابی رنگ کے اور دوسری طرف سے زرد مائل سفید رنگ کے ہوتے ہیں۔پھل گولائی لئے ہوئے بیضوی جن کے اوپر سفید رنگ کا ایک سخت چھلکا ہوتا ہے۔جس کو پوست بیروں پستہ کہاجاتا ہے اور اس کے اندر سبز رنگ کا مغز ہوتا ہے۔اسی کو پستہ کہاجاتا ہے مغز کے اوپر ایک ہلکاساپرت ہوتا ہے یہ مغز کھانے میں لذیز ہوتا ہے۔مغز اور اسکا بیرونی پوست دواء مستعمل ہے۔
مقام پیدائش۔
پاکستان ایران افغانستان اور شام وغیرہ۔
مزاج۔
گرم و تر درجہ اول۔
استعمال۔
مقوی باہ ہونے کی وجہ سے اس کو تقویت باہ کیلئے ضعف باہ کے مریضوں کو معجونوں یا حلوہ میں شامل کرکے کھلاتے ہیں۔مسمن بدن ہونے کے باعث جسم کو موٹا کرنے اورنسیان ہے۔گردوں اور جسم کی لاغری کودورکرنے کے علاوہ کھانسی میں بھی مفید ہے۔اور بلغم کے اخراج میں سہولت پیداکرتا ہے۔
پستہ کے پھول کھانسی میں مفید ہیں۔
نفع خاص۔
مقوی دل ودماغ ،
مضر۔
امراض اسقل۔
مصلح۔
خوبانی آلو بخارا سکنجین ،
بدل۔
مغز بادام شیریں۔
مقدارخوراک۔
چھ ماشہ سے ایک تولہ تک۔
مشہورمرکب۔
معجون ثعلب،لبوب صیغرو کبیر،حب گل پستہ ۔
Copy Rights @DMAC 2016
www.sayhat.net
پوست بیرون پستہ۔(پستہ کے چھلکا )۔
ماہیت۔
عربی میں قشرالنفستق کہتے ہیں۔مغز نکالنے کے بعد جو سخت چھلکا سفید رنگ کا رہ جاتاہے۔وہی پوست بیرون پستہ ہے جس کا ذائقہ پھیکا ہوتا ہے۔
مزاج۔
سردوخشک درجہ دوم۔
استعمال۔
پوست بیرون پستہ دستوں کو بند کرنے قلب معدہ اور آمعا کو قوت دینے کیلئے استعمال ہوتاہے۔تنہا یامناسب ادویہ کے ہمراہ باریک پیس کر چھڑکنے سے منہ آنے کو قلاع مفید ہے۔قے اور متلی کو رفع کرنے کیلئے اس کا ضماد خیساندہ بناکر پلاتے ہیں یا کسی مناسب شربت میں ملاکر چٹاتے ہیں۔یہ ہچکی کو دفع کرتا ہے مسوڑوں کی طاقت کیلئے اس کو منجن میں اکثر استعمال کرتے ہیں۔
نفع خاص۔
دستوں اور متلی کو روکتا ہے۔
مقدارخوراک۔
تین سے پانچ گرام (ماشے)۔
مشہورمرکب۔
جوارش آملہ جوارش انارین معجون سنگ دانہ مرغ۔
Copy Rights @DMAC 2016
www.sayhat.net
پلاس پاپڑہ
(Butus Seeds)
(بیوٹی سمینا)
(Buteae Semina)
دیگرنام۔
پلاس پاپڑہ ہندی میں ،سندھی میں چھاچھرو سنسکرت میں پلاش بیج۔
ماہیت۔
درخت ڈھاک کے تخم ہیں جو چٹپے گردے کی شکل کے ہوتے ہیں۔ہر تخم لگ بھگ سوانچ لمبا اور ایک انچ چوڑہ ایک بٹا سولہ سے ایک بٹا چودہ انچ موٹا اوپر کا چھلکا باریک چمکدار اور جھری دار ہوتاہے۔
رنگ،
بیرونی پوست سرخی مائل بھور ا مغزسفیدی مائل بہ زردی ۔
ذائقہ۔
تلخ چرپرا ہوتا ہے۔
مزاج۔
گرم خشک درجہ سوم۔
افعال۔
کاسرریاح قاتل کرم شکم دافع تپ ربع جالی ومفرح تریاق سانپ بچھو ۔عقرب۔
استعمال۔
قاتل و اخراج کرم شکم ہونے کی وجہ سے اس کا جوشاندہ یا سفوف اس مقصد کے لئے مفید ہے۔موسمی بخاریا تپ ربع تجاری چوتھیہ میں ہم وزن کرنجوہ کے ہمراہ گولیاں بناکر تپ ربع کے دورہ سے قبل کھلاتے ہیں۔اگرقبض کو پہلے کھول لیا جائے تو زیادہ مفید ہے جالی ومفرح ہونے کی وجہ سے امراض جلدیہ خصوصاًقوبا کیلئے طلاًاستعمال کرتے ہیں۔
عضو مخصوص کے نقائص دور کرنے والے طلاؤں میں بھی شامل کرتے ہیں اور بعض اوقات صرف اس کاروغن بذریعہ پتال جنتر نکال کے طلاًعضو مخصوص پر لگاتے ہیں۔
سانپ اور عقرب کے زہر کو دورکرنے کیلئے اندونی و بیرونی طور پر مفید ہے ۔سوطاًصرع میں بھی مفید استعمال ہے۔
آنکھ کے امراض دور کرنے کیلئے پوست ہلیلہ کے ساتھ گلاب میں گھس کر آنکھ میں ڈالنا مفید ہے۔
نفع خاص۔
مخرج کرم شکم۔
مضر۔
آمعاء کیلئے ۔
مصلح۔
عرق گلاب۔
بدل
رائی۔
مقدارخوراک۔
دو رتی سے ایک ماشہ تک۔

پرسارنی. پرسیاؤشان ’’ ہنس راج ‘‘ پرشٹ پرنی

Copy Rights @DMAC 2016
www.sayhat.net
پرسارنی
(Paedenta Foctida)
دیگرنام۔
پنجابی میں کھیپ ،سنسکرت میں پرسارنی ہندی میں گندھ پرسارنی مرہٹی میں ہرن ویل بنگالی میں گاندھالی ،گندھابھاولی ،گجراتی میں گندبھانااور لاطینی میں پڈیریا فوٹیڈا۔
ماہیت۔
ایک بیل دارپودا ہے جب اس کوکچلا جائے تو کاربن ڈائی سلفائیڈ کی بو آنے لگتی ہے۔اسی وجہ سے اسکا نام گندھالی رکھا گیا ہے۔اس کے پتے بھنگ کے پتوں سے ملتے جلتے ہیں،جن کا ذائقہ تلخ ہوتا ہے۔
مقام پیدائش۔
یوبی پنجاب مغربی ہند بنگال میں اور آسام کے علاوہ یہ پودے نمناک زمین میں خودرو بھنگ کے پودوں کے ساتھ ہی موسم برسات میں پیدا ہوتے ہیں۔
استعمال۔
مقوی ہونے کی وجہ سے اس کے پتوں اور جڑ کی سبزی بناکر بنگال میں بیماروں کو نقاہت دورکرنے کیلئے دیتے ہیں۔ابالنے سے گندھالی میں سے بد بو جاتی رہتی ہے۔اس کا سالم پودا دست آور ہے اور امراض مفاصل میں داخلاًوخارجاًاستعمال کرنے سے بلغمی مادہ کو خارج کرتا ہے اور بلغمی اورام کو تحلیل کرتا ہے چنانچہ پرسارنی کو تیل میں جلا کر تیل کی مالش کرنے سے وجع المفاصل وغیرہ امراض دور ہوجاتے ہیں۔
مقدارخوراک۔
ایک سے دو تولہ (دس سے بیس گرام تک۔)
Copy Rights @DMAC 2016
www.sayhat.net
پرسیاؤشان ’’ہنس راج‘‘
انگریزی میں۔
Maiden Hair Feru
لاطینی میں۔
Adiantum lunullatum
خاندان۔
Polypodiaceae
دیگرنام۔
شعرالارض یا شعرالجبال میں ہندی میں ہنس راج ،پنجابی میں کھوہ بوٹی بنگالی میں گوپائے لتاکہتے ہیں۔
ماہیت۔
یہ بوٹی عموماًنمناک زمین مثلاًتالاب کنوئیں کے کنارے پر سایہ دار درختوں کے نیچے پیدا ہوتی ہے اور پہاڑی علاقہ کی نمناک جگہوں پر کثرت سے ہوتی ہے۔پتے گہرے سبز رنگ کے ہنس کے بیجوں کی طرح کٹے ہوئے ہوتے ہیں۔پتوں کی پچھلی طرف غور سےدیکھیں تو سیاہ رنگ کے دھبے یا ذرے لگے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
دراصل یہ کالے رنگ کے ذرے ہنس راج کے بیج ہوتے ہیں۔جو زمین پرگرجاتے ہیں۔اور ان سے نئے پودے پیداہوتے ہیں۔ان پتوں کے درمیان ایک ڈنڈی سیاہ سرخی مائل اور باریک ہوتی ہے۔
اقسام۔
یہ کئی قسم کی ہوتی ہے جس میں ایک کا نام Adiantum Capallusاور دوسری کانام Adiantum Venustumہوتا ہے۔جس کے پتوں اور پودوں میں تھوڑا تھوڑا فرق ہوتا ہے۔
مقام پیدائش۔
یہ عموماًپاکستان ہندوستان ایران اور افغانستان ،کے بیشتر علاقوں میں پیدا ہوتی ہے۔
مزاج۔
معتدل ۔
بعض کے بقول گرمی خشکی کی طرف مائل ۔
افعال۔
محلل ملطف مفتح منفج بلغم جالی مدربول مدرحیض و نفاس۔
استعمال۔
مدربول و حیض ہونے کی وجہ سے ادرار بول و حیض کے علاوہ نفاس اور اخراج مشیمہ کیلئے دیگر ادویہ کے ہمراہ استعمال کرتے ہیں۔محلل ،مفتح اور منفج بلغم ہونے سبب سے ذات الصدر ،ذات لریہ نزلہ کھانسی اور ضیق النفس میں استعمال کیاجا تاہے۔اور حمیات بلغمی میں بطور منفج دیگر ادویہ مفنج کے ہمراہ استعمال کراتے ہیں۔جالی اور مجفف ہونے کی وجہ سے قروح رطبہ دائے الثعلب داءطیہ میں نافع ہے۔اسی وجہ سے اس کو باریک پیس کر قلاع ثبوردہن اطفال میں چھڑکن مفید ہے۔محلل ہونے کی وجہ سے بطور ضماد صلابات خنازہر اور دیگر اورام کوتحلیل کرتا ہے خاکستر پر سیاؤ شان سے سردھونےسےسبوسہ سر زائل ہوتا ہے۔
تریاق ہونے کی وجہ سے سانپ اور پاگل کتے کے کا ٹنے کے زہر میں اس کا جوشاندہ مفید ہے۔پرساؤ شان خلطون کو لطیف کرتا ہے۔سدہ کھولتا ہے۔بادہ پختہ کرکے معتدل القوام بناتا ہے۔
خشکی کو لاتا ہے دردسینہ کھانسی اور دمہ کو مفید ہے۔
خصوصی ہدایات۔
اس کو سفوفاًتنہا استعمال نہیں کیاجاتا ہے۔عام طور پر اسکا جوشاندہ مستعمل ہے۔
بدت اثر۔
اسکی قوت ایک سال تک رہتی ہے۔
نفع خاص۔
سوداصفراء بلگم کا مسہل اور دافع نزلہ ہے۔
مضر۔
امراض طحال۔
مصلح۔
مصطگی اور گل بنفشہ ۔
بدل۔
بنفشہ اور اصل السوس۔
مقدارخوراک۔
پانچ سے سات گرام تک۔
مشہورمرکب۔
مطبوخ بخار لعوق سپستان شربت مدر حیض جوشاندہ خاص۔
Copy Rights @DMAC 2016
www.sayhat.net
پرشٹ پرنی۔
(Uraria Picta)

دیگرنام۔
ہندی میں پٹھون سنسکرت میں پرشنی پرنی بنگالی میں چاکلے مرہٹی میں پٹھ ونڑ گجراتی میں پیٹھ اور لاطینی میں یوریریا پکٹا کہتے ہیں۔
ماہیت۔
یہ دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک گول والی دوسری لمبے پتے والی گول پتے والی کا پودا ہاتھ اونچا ہوتاہے۔جس پر درخت بیل کے پتوں کی مانند تین تین پتے آتے ہیں۔پتے گول درمیان میں چوڑے اوربے نوک ہوتے ہیں۔دوپتے بالمقابل ہوتے ہیں اور تیسرا پتہ سر ے پر ہوتا ہے۔جو کی مانند چھوٹے بڑے ہواکرتے ہیں۔
یہ دو قسم کے ہوتے ہیں اور دونوں قسم کی جڑ اور تمام اجزاء بطور دواء مستعمل ہے۔
مقام پیدائش۔
گول پتے والی الموڑہ بنگال پنجاب نیپال اور برما لمبے پتے والی بہار بنگلہ دیش اور بنارس میں ہوتی ہیں۔
مزاج۔
گرم ۔
استعمال۔
یہ تینوں خلطوں کو دور کرتی ہے۔دست آور ہے بھاوپرکاش میں لکھا ہے کہ جلن بخار دمہ خونی اسہال پیاس اورقے کی دافع دواء ہے۔
مقدارخوراک۔
چھ ماشے سے ایک تولہ تک۔

عرق شاہترہ۔ پتھرچٹ۔ پتھری توڑ۔ پدماکھ

Copy Rights @DMAC 2016
www.sayhat.net
عرق شاہترہ۔
یعنی اس کا عرق بھی نکالا جاتاہے جو عام طور پر خرابی خون اور مذکورہ امراض کیلئے مفید ومستعمل ہے چہرے کی جھائیوں اور مہاسوں کو دور کرتا ہے۔
عرق کی مقدار خوراک۔
ایک کپ صبح خالی پیٹ پی لیں۔
نفع خاص۔
مصفیٰ خون ۔
مضر۔
ریہ کیلئے ۔
مصلح۔
کانسی یا آب کانسی۔
بدل۔
ہلیلہ وسنامکی۔
مقدارخوراک۔
پانچ سے سات گرام یا ماشے۔
مشہورمرکبات۔
اطریفل شاہترہ عرق شاہترہ حب شاہترہ وغیرہ۔
Copy Rights @DMAC 2016
www.sayhat.net
پتھرچٹ،’’پتھری توڑ‘‘
دیگرنام۔
بنگالی میں پاتھر جور،عربی میں کاسرالحجراردواورپنجابی میں پتھرچٹ جبکہ انگریزی میں کولی ایس ایروے ٹی کس کہتے ہیں۔
ماہیت۔
عام قد کا پودا ہے جس کی شاخیں زمین سے سیدھی ایک سے لے کر تین فٹ تک لمبی ہوتی ہیں یہ تقریباًانگلی جتنی موٹی شاخیں جڑ میں سے نکلتی ہیں۔جو چھوٹی چھوٹی روئی سے ملائم کلیوں سے بھری ہوتی ہے۔ان میں سے چھوٹے بیخ مثل خرفہ ہوتے ہیں۔ہر بیج کے منہ پر پردہ سیاہ اورسخت چھوٹی چیونٹی کے برابر ہوتاہے۔اور ترچھی موچھیں لگی ہوتی ہیں۔پتے دبیز ہوتے ہیں موڑنے سے ٹوٹ 
جاتے ہیں موسم گرمی میں گرمی اور خشکی کی وجہ سے اس کے پتے سکڑ جاتے ہیں۔۔
مقام پیدائش۔
پاکستان ہندوستان میں دکن میں بکثرت ہوتی ہے۔
مزاج۔
گرم وخشک درجہ دوم۔
افعال۔
مدرقوی ،مفتت سنگ گردہ وامثانہ۔
استعمال۔
اس بوٹی کے پتے تنہا یا دیگر مدرات کے ہمراہ پانی میں پیس کر مصری ملاکر پلانے سے گردہ اور مثانے کی پتھری توڑکرخارج کردیتی ہے اورسوزاک کیلئے مفید ہے۔اس پودے سے ایک خوشبو دار جوہر نکلتا ہے جو یورپ والے قیمتی شرابوں میں ملاتے ہیں۔
نفع خاص۔
مخرج حصات گردہ ومثانہ،
مضر۔
باہ کو۔
مصلح۔
کلتھی کاخیساندہ۔
مقدارخوراک۔
پانچ ماشے سے ایک تولہ۔
Copy Rights @DMAC 2016
www.sayhat.net
پد ماکھ۔
(Bird cherry)

دیگر نام 
ہندی میں پدماکھ بنگالی میں پدم کاشٹھ گجراتی میں پدم کاٹھ تلنگو میں پدم پچیسکا ،سنسکرت پرمک اور انگریزی میں برڈچیری کہتے ہیں۔
ماہیت۔
یہ ایک پہاڑی درخت ہے جس کا تنا چکنا اورسرخ مائل سیاہ رنگ کا ہوتا ہے۔پتے چھوٹے بے ترتیب ہوتے ہیں۔اس کو پھل نہیں لگتا۔پھول آکرگرجاتے ہیں۔پدماکھ کی لکڑی سونگھنے سے کنول کے پھولوں جیسی دھیمی دھیمی میٹھی خوشبو آتی ہے۔
مزاج۔
سردخشک۔
افعال۔
پدماکھ کی چھال کا سفعف مناسب بدرہ کھلانا خونی بواسیر کثرت حیض نکسیراوراسقاط حمل کو روکنے کیلئے کارآمد ہے ۔
مقدارخوراک۔
تین سے چھ گرام۔

پپیتہ تخم پپیتہ. پپیہ ’’ ارنڈ خربوزہ ‘‘ پٹ پاپڑا ’’ شاہترہ ‘‘

Copy Rights @DMAC 2016
www.sayhat.net
پپیتہ(تخم پپیتہ)۔
انگریزی میں۔
St.Lgntaius Beans
سندھی میں پاپیتو،
ماہیت۔
پپیتہ کے نہایت سخت بیج ہیں جوکہ تقریباً سہ گوشہ ہوتے ہیں۔اور پپیتہ زرد آلوکے برابر ہوتا ہے اس میں متعدد تخم نکلتے ہیں۔
رنگ۔
باہر سے بھور ا سیاہ لیکن اندر سے نیم شفاف ہوتا ہے۔
ذائقہ۔
تلخ۔
مقام پیدائش۔
جزائرفلپائن کو چین وغیرہ۔
مزاج۔
گرم خشک بدرجہ دوئم ۔
افعال۔
تریاق سموم محلل ،مسخن،مخرج بلغم،کاسرریاح،مسکن درد معدہ ۔
استعمال۔
تریاق سموم اور دافع قے و اسہال ہونے کے باعث ہیضہ میں بکثرت استعمال ہوتا ہے درد معدہ اور درد آمعا ء کو دور کرتا ہے۔
اس غرض کیلئے نصف رتی گلاب کے عرق میں گھس کرپلاتے ہیں۔محلل مسخن اور بواسیر وجع المفاصل ،فالج وغیرہ میں نافع ہے۔غشی اور بے ہوش میں اس پر طلاء کرنے سے درد کو دور کرتا ہے۔اور اس سے زہر کا ازلہ ہوتاہے تقویت کی غرض سے بھی استعمال کیاجاتاہے۔
نفع خاص۔
تریاقیت اور ہیضہ میں۔
مضر۔
گرم مزاج کیلئے۔
مصلح۔
کاسنی سبز ۔
بدل۔
نارجیل وریائی۔
مقدارخوراک۔
دوسے چار چاول تک ۔
مشہورمرکب۔
حب پپیتہ۔
Copy Rights @DMAC 2016
www.sayhat.net
پپیہ’’ارنڈخربوزہ‘‘
(Pays)
دیگرنام۔
عربی میں شجر البیطخ،اردو میں ارنڈ خربوزہ ککڑی ،فارسی میں بید انجیر گجراتی میں پپہنی سندھی میں کاٹھ گدرہ اورانگریزی میں پپایا کہتے ہیں۔
ماہیت۔
ارنڈ خربوزہ ایک درخت کا پھل ہے جو خربوزہ کی مانند لیکن اس سے چھوٹا ہوتا ہے۔خام حالت میں اسکی رنگت باہر سے سبز ہوتی ہے۔اوراندر سے سفید مغز اور دودھ ہوتا ہے۔پختہ ہونے پر اس کا پوست زرد اورمغز سرخ ہوجاتا ہے۔جوکہ مزے میں کم و بیش شیریں ہوتا ہے اس کے تخم چھوٹے گول بھورے یا سیاہ رنگ کے ہوتے ہیں۔
مزاج۔
پختہ ارنڈ،خربوزہ گرم وتر اورخام گرم خشک۔
افعال۔
ہاضم ،مشتی کاسرریاح مدربول منفتت حصات قاتل کرم شک میں خصوصاًارنڈ خربوزہ کا دودھ ۔
استعمال۔
ارنڈ خربوزہ کے کھانے سے معدہ قوی ہوتا ہے بھوک خوب لگتی اور ریاح خارج ہوتی ہے۔پیشاب خوب لاتا اور پتھری کو توڑتا ہے کرم شکم خصوصاًکینجوئے اورکدودانے اس کے استعمال سے ہلاک ہوکر خارج ہوجاتے ہیں۔
کچے ارنڈ خربوذہ سے جودودھ نکلتا ہے اس کے طلاء کرنے سے درد زائل ہوجاتا ہے۔اس میں کپڑا بھگو کر حمول کرنے سے ادرار حیض اور اسقاط حمل ہوجاتا ہے۔یہ دودھ خراش آور ہوتا ہے اس لئے داد اورعقرب گزیدہ کا لگانامفید ہے۔کچا پھل سخت گوشت کوجلد گلانے کیلئے بھی استعمال کیاجاتا ہے۔
پپیہ کے تخم کرم کش تاثیر رکھتے ہیں پیٹ کے کیڑوں کو نکالنے کیلئے انہیں شہد کے ساتھ دیاجاتا ہے۔
ارنڈ خربوزہ کے پتوں کو ابال کر ان کا جوشاندہ گھوڑوں کو بطور مسہل دیاجاتا ہے۔
نفع خاص۔
ہاضم طعام۔
مضر۔
محرورین میں حدت بڑھاتا ہے حاملہ عورتوں کو استعمال نہ کرنا چاہیے۔
مقدارخوراک۔
پانچ یا چھ تولہ لیکن بہتر ہے کہ حکیم صاحب کے مشورے سے بقدر برداشت مزاج دیں۔
Copy Rights @DMAC 2016
www.sayhat.net
پٹ پاپڑا’’شاہترہ‘‘
(Fumaria)
لاطینی میں ۔
Fumaria.parviflora
خاندان۔
Fumariaceae
دیگرنام۔
عربی میں شاہترج یا بقلقہ الملک،فارسی میں شاہترہ سندھی میں شاہتروبنگلہ میں اکثیت پاپڑہ ہندی میں مراٹھی میں پٹ پاپڑا۔
ماہیت۔
شاہترہ کا پودا چھ انچ سے ڈیڈھ فٹ تک اونچا ،نازک سفیدی مائل سبز اور زردی لئے ہوتاہے۔پتے دھبے یا گاجر کی طرح کٹے پھٹے آدھ انچ سے ڈھائی تک لمبے اور آدھ انچ کے قریب چوڑے ہوتے ہیں۔پھول سفید یا گلابی رنگ کے چھوٹے چھوٹے جن کا اگلہ حصہ بیگنی رنگ کا ہوتا ہے۔
شاہترہ کا پودا تقریباًتمام ملک میں گیہوں اور جوکے کھیتوں میں موسم سرما میں پیدا ہوتے ہیں ۔یہ گرمیوں میں خشک ہوجاتا ہے مگر موسم برسات میں اس کی جڑ پھر سبز ہوجاتی ہے۔اس کو عام لوگ پہچان لیتے ہیں۔
ذائقہ۔
کڑوا ہوتا ہے۔
مقام پیدائش۔
پاکستان میں پنجاب سندھ انڈیا میں دہلی گنگاکے کناروں ہمالی کی ترائی وغیرہ میں پیدا ہوتا ہے۔
اقسام۔
مذکورہ کے علاوہ اسکی بہت سی اقسام ہیں۔
مزاج۔
مرکب القوی ،گرمی سردی معتدل اور دوسرے درجے میں خشک ہے۔
افعال۔
مضفیٰ خون مدربول مقوی معدہ مشہتی دافع بخار ملین دافع سدہ جگر وطحال شاہترہ کے تخم مقوی بصر۔
استعمال۔
شاہترہ کو زیادہ تر امراض فساد خون مثلاًخارش آتشک داد چنبل پھوڑا پھنسی وغیرہ میں جوشاندہ خیساندہ عرق اور رس کی شکل میں استعمال کرتے ہیں۔تلی اور جگر کے سدوں کو کھولتا ہے۔شاہترہ سبز کا پانی نچوڑ کر پرانے بخاروں میں بکثرت مستعمل ہے ایک سے تین تولہ شربت پاُپڑہ یا اس کا رس پلانے سے پسینہ اور پیشاب زیادہ آتا ہے نیز ایسا بخار جوکہ کرم شکم یا خون کی خرابی سے ہوان میں مفید ہے۔معدہ کو طاقت دیتا ہے۔اسہال اور جریان خون میں مفید ہے۔یرقان میں فلفل سیاہ فائدہ مند ہے۔تپ کہنہ اور امراض سودوی میں مفید ہے۔

پاہ گجراتی ۔ پیپلا مول۔ بیخ دار فلفل۔ پپلی۔ فلفل دراز۔ مگھاں

Copy Rights @DMAC 2016
www.sayhat.net
پاہ گجراتی۔
ماہیت۔
ایک معدنی دوا ہے۔جو پتھر کی مانند ہوتی ہے۔
رنگ۔
مختلف سیاہ و سفید ۔
ذائقہ۔
پھیکا ۔
یہ گجرات (بمبئی )میں ہوتی ہے اس لئے اس کوپاہ گجراتی کہتے ہیں۔
مزاج۔
گرم خشک بدرجہ دوم۔
استعمال۔
فرجہ کے بطوراستعمال کرنے سے سیلان الرحم کو دفع کرتی ہے۔اور خون استحاضہ کو بند کرتی ہے۔اس کا لیپ امراض چشم میں مفید ہے۔
مقدارخوراک۔
اس کوہ خوردنی طور پر استعمال نہیں کرتے ہیں۔
Copy Rights @DMAC 2016
www.sayhat.net
پیپلامول’’بیخ دارفلفل ‘‘
لاطینی میں۔
Piper Lengumroot of
دیگرنام۔
عربی میں اصل الفلفل (بیخ دار فلفل )فارسی میں فلفل مویہ اورسنسکرت میں پیلی پولم کہتے ہیں۔
ماہیت۔
فلفل دراز کی جڑیں گرہ دار سخت وزنی اورشکل اسارون کی جڑ سے ملتی جلتی ہیں۔لیکن یہ چرچٹہ کی جڑ سے وزنی،تیزوتلخ اور چریری ہوتی ہے۔۔
رنگت۔
مٹیالی یا خاکستری سیاہی مائل ہوتی ہے۔لیکن توڑنے پر اندر سے سفید نکلتی ہے۔بازار میں شاخوں اور جڑوں کو ملا کر ہی پیلا مول بیچاجاتا ہے۔
مقام پیدائش۔
راجپوتانہ،دکن ،نیپال،آسام ،کھاسیہ ،کی پہاڑیاں ،بنگال،بمبئی کے علاقے سیلون ،گجرات ملپائن بہار ہمالیہ کی تہلیٹی نینی وغیرہ کے گرم حصوں اور ملکوں میں پائی جاتی ہے۔ایک بارکی بوئی ہوئی بہت دیر تک پھل دیتی ہے۔
مزاج۔
گرم خشک درجہ دوم۔
افعال۔
مقوی معدہ کاسرریاح ،مقوی باہ مسخن و محلل ،جالی ۔
استعمال۔
پیپامول پیپل سے زیادہ مقوی ہے۔ضعف معدہ ضعف اشتہا ،معدے کے ریای درد قولنج اور نفع شکم میں استعمال کیاجاتا ہے۔مقوی باہ نسخوں میں شامل کرتے ہیں۔سردنقر س اور صلابت جوڑ میں اس کا لیپ لگاتے ہیں۔چہرے کا رنگ نکھارنے کیلئے اس کو پیس کو طلاءکرتے ہیں۔
اس کا چبانا رطوبت منہ کی چھانٹناہے۔پیپلا مول کی جڑ کو جوشاندہ زچہ کو وضع حمل کے فوراًبعد پلایاجاتاہے۔تاکہ آنول پورے طور پر خارج ہوجائے 
کھانسی اوردمہ میں شہد میں ملا کر چٹاتے ہیں۔چند عدد پیپلا مول کو ایک بکری کے جگر میں چھبو کر آگ پر گرم کریں اس سے جو پانی نکلتا ہے۔آنکھ میں لگانے سے پھولا ناخونہ کیلئے سفید ہے۔
نفع خاص۔
مقوی معدہ ۔ہاضم ۔
مضر۔
منی اور بینائی کو کم کرتا ہے۔
مصلح۔
ضمع عربی میں صندل سفید ۔
بدل۔
نارمشک۔سورنجان۔
کیمیاوی اجزاء۔
اس میں ایک اڑنے والا تیل رال ،ایک چمکدارالکلائیڈ پائیرین (جوہر فلفل )اور نشاستہ موجود ہے۔
مقدارخوراک۔
ایک سے دو ماشہ تک۔
Copy Rights @DMAC 2016
www.sayhat.net
پپلی’’فلفل دراز‘‘مگھاں۔
انگریزی میں۔
Long Pepper
لاطینی میں۔
Piper Longum
خاندان۔
Piperaceae
دیگرنام۔
عربی میں دار فلفل ،فارسی میں فلفل دراز،ہندی میں پیپل ،سندھی میں پیری ،بنگلہ میں پپلی پنجابی میں مگھاں تامل میں پٹلی اور انگریزی میں لانگ پیپر کہتے ہیں۔
ماہیت۔
پپلی کی بیل ہوتی ہے۔جو اردگردکےدرختوں کےسہارے اوپر کو اٹھتی ہے یا زمین پر پھیلتی ہے پتے پان کے پتوں کی طرح لیکن ان سے چھوٹے ،لوبیا کے پتوں کی وضع پرجوڈھائی تین انچ لمبے ڈیڈھ سے دوانچ چوڑے نوکدار پچھلی سطح پر پانچ چھ دھاریاں اوپر سے چکنے مزہ میں چرپرے ہوتے ہیں۔بیل کی شاخیں گانٹھ دار ہوتی ہیں۔ہر گانٹھ چھ دھاریاں اوپر سے چکنے مزہ میں چریرے ہوتے ہیں پھل کے پتے جڑ سے نکلتے ہیں۔جو سبز شہتوت کی شکل کی ہوتی ہے۔لیکن اس سے چھوٹے اور کم موٹائی کےپھل ہر گانٹھ سے کھبی دویا ایک نکلتے ہیں جوتقریباًایک سےسوانچ لمبی ہوتی ہے اور شروع میں جب پکتی ہے تو سرخ رنگ کی لیکن سوکھنے پر سیاہ ہوجاتی ہے تمام سطح کھردری اوردندانے دار ہوتی ہے۔ہر دانہ ایک دوسرے سے ملا ہوا جن کے اوپر پتلا غلاف ہوتا ہے۔اس کا ذائقہ تلخ و چرپر اور کالی مرچ سے ملتاجلتا ہوتا ہے۔
مقام پیدائش۔
بنگال لکھونڈ یوپی نیپال آسام کے سایہ دار مقامات ۔
افعال۔
مقوی معدہ کاسرریاح مقوی باہ مسخن بدن ومحلل ۔
استعمال۔
پیلا مول اور فلفل دراز دونوں کے مزاج اور خواص ایک ہی جیسے ہیں بلکہ پیلا مول تیز اور بہتر ہے۔پیلی سو گرام لے کر ایک پاؤ دودھ میں خوب جوش دیں ،جب دودھ خشک ہوجائے توپیلی کو الگ کرلیں باقی کا مکھن نکا ل کر گھی تیار کرلیں یہ گھی وجع المفاصل اور ریحی دردوں کیلئے مفید ہے پیلی کو خشک کر کے سفوف بنالیں ،ہموزن کو زہ مصری ڈال کر یہ سفوف چار ماشہ کھاکر گائے کا گرم دودھ پی لیں۔مقوی باہ اور ہاضم ہے۔فلفل دراز اورلہسن کا جوشاندہ بلغمی دمہ کو سکون دیتاہے اور مخرج بلغم بھی ہے۔
یہ معدہ اور کمر کوقوت دیتی ہے۔اور اعضاء شکمی میں حرارت پیدا کرتی ہے۔
نفع خاص۔
مقوی معدہ ،
مضر۔
صداع۔
مصلح۔
گون ببول ،صندل اور گلاب۔
بدل۔
فلفل سفید زنجیل ۔
مقدارخوراک۔
ایک سے دو گرام ۔